احمد فراز
موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) اب کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ ہمارے حال کی ایک تلخ حقیقت ہے۔ پاکستان ان ممالک کی صفِ اول میں شامل ہے جو اس عالمی بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ اگرچہ اس مسئلے کے عالمی اسباب اور بین الاقوامی تعاون پر بحث ایک طویل کہانی ہے، لیکن وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بیرونی مدد کے انتظار کی بجائے اپنے گھر کی درستگی پر توجہ دیں۔ اس وقت پاکستان کو جن دو سب سے بڑے اور فوری بحرانوں کا سامنا ہے، وہ جنگلات کی کٹائی اور پانی کا ضیاع ہیں۔
۱. جنگلات کا زوال: پھیلا ہوا صحرا اور گھٹتی ہوئی ہریالی
ہمارے ملک میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جنگلات تیزی سے کاٹے جا رہے ہیں اور اس تناسب سے نئے درخت لگانے کا کوئی مؤثر یا پائیدار نظام موجود نہ ہونے کے برابر ہے۔ نہ تو اس حوالے سے کوئی گراس روٹس لیول پر بڑی آگاہی مہم نظر آتی ہے اور نہ ہی سرکاری سطح پر کوئی ایسے ٹھوس اقدامات دکھتے ہیں جو اس تباہی کو روک سکیں۔
اس کا حل یہ ہے کہ ہمیں روایتی طریقوں سے ہٹ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
بنجر زمینوں کا استعمال: سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں لاکھوں ایکڑ بنجر زمینیں پڑی ہیں جنہیں جنگلات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
گھریلو گندے پانی کا مصرف: ان بنجر زمینوں کو سرسبز بنانے کے لیے پانی کی قلت کا عذر پیش کرنے کی بجائے گھریلو استعمال کے بعد ضائع ہونے والے پانی (Greywater) کو چھوٹے نالوں اور چینلز کے ذریعے ان جنگلات تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
خاندانی اور سماجی شجرکاری: آبادی میں اضافے کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ قانون یا سماجی ضابطہ ہونا چاہیے کہ ہر بچے کی پیدائش پر خاندان کم از کم دس درخت لگائے اور اس کی پرورش کرے۔ اسی طرح کسی گھر میں غم کا مرحلہ (میت) پیش آنے پر بھی یادگار کے طور پر دس درخت لگانے کی روایت ڈالی جائے۔
قیدیوں کی افرادی قوت کا استعمال: جیلوں میں بند قیدیوں کی افرادی قوت کو اس کارِ خیر میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ قیدیوں کو شجرکاری اور ان کی دیکھ بھال کا ہدف دے کر سزاؤں میں نرمی یا اچھے چال چلن کی سند دی جائے تو یہ ملک اور قیدی دونوں کے لیے سودمند ہوگا۔
مہمات کی تشکیل: شجرکاری مہمات کو محض کاغذی تقریبات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ گھروں کے اندر، گلیوں، مین روڈز اور محلوں میں باقاعدہ ہدف دیے جائیں، ٹریننگ دی جائے اور لوگوں کی روزمرہ عادات کا حصہ بنایا جائے۔
۲. پانی کا بحران: سمندر برد ہوتا خزانہ اور نیچے گرتا واٹر ٹیبل
ہمارے پاس جتنا بھی میٹھا پانی آتا ہے، اس کا بڑا حصہ بغیر کسی مناسب اسٹوریج کے آخر کار سمندروں میں جا کر ضائع ہو جاتا ہے۔ بارشوں کے دوران یا گلیشئر پگھلنے سے آنے والے سیلاب تباہی تو مچاتے ہیں، مگر ان کے پانی کو محفوظ کرنے کا کوئی موثر انتظام موجود نہیں۔
دوسری طرف، زمین کے نیچے پانی کی سطح (Water Table) خطرناک حد تک نیچے جا رہی ہے، جو آنے والے وقتوں میں ایک ہولناک قحط اور انسانی المیے کی پیش خیمہ ہے۔
اس کا حل کیا ہے؟
اگر ہم بڑے ڈیم یا بڑے تالاب فوراً نہیں بنا سکتے، تو ہمیں نچلی سطح سے شروعات کرنا ہوگی:
چھوٹے چھوٹے تالابوں اور ڈیموں کا جال بچھایا جائے۔
ہر علاقے اور گاؤں کی سطح پر ایسے واٹر ریزروائرز بنائے جائیں جہاں بارش کا پانی اور سیلابی ریلے جمع ہو سکیں۔
یہ تالاب نہ صرف سیلابی تباہی کو روکیں گے بلکہ زمین کے نیچے پانی کی سطح (Recharge Groundwater) کو دوبارہ اوپر لانے میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔
نتیجہ
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اب طویل تقریروں کا وقت گزر چکا ہے۔ حکومت، اداروں اور عوام—سب کو مل کر انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنے حصے کا درخت اور اپنا ایک تالاب بنانے کی تحریک شروع کرنا ہوگی۔ اگر آج ہم نے غفلت برتی، تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
![]()








Leave a Reply