تازہ ترین خبریں اور معتبر تجزیے | خیبر پختونخواہ کا سب سے بڑا خبر رساں ادارہ

دنیا بوڑھی ہو رہی ہے، ہم نے بڑھاپے کے لیے کیا سوچا ہے؟

تحریر: احمد فراز

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، زندگی کی سہولتیں بڑھ رہی ہیں، علاج کے طریقے بہتر ہو رہے ہیں اور انسان پہلے کے مقابلے میں زیادہ طویل زندگی گزار رہا ہے۔ لیکن اسی ترقی کے ساتھ ایک ایسا سوال بھی ہمارے سامنے کھڑا ہو رہا ہے جس پر شاید ہم نے ابھی پوری سنجیدگی سے غور نہیں کیا:

جب دنیا میں بوڑھے لوگوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے تو ہم نے ان کے بڑھاپے کے لیے کیا سوچا ہے؟

یہ صرف ایک طبی سوال نہیں، بلکہ ایک سماجی، معاشی، نفسیاتی اور انسانی سوال ہے۔

اقوامِ متحدہ کے تازہ آبادیاتی اعداد و شمار کے مطابق 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کی عالمی تعداد 2025 میں تقریباً 1.2 ارب تک پہنچ چکی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق یہ تعداد 2050 تک تقریباً 2.1 ارب تک پہنچ سکتی ہے۔ یعنی آنے والی دنیا میں بزرگ افراد معاشرے کا ایک بہت بڑا حصہ ہوں گے۔

یہ تبدیلی صرف چند ممالک تک محدود نہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق بہت سے ممالک میں شرحِ پیدائش کم ہو رہی ہے، زندگی کی مدت بڑھ رہی ہے اور آبادی کی عمر کی ساخت تبدیل ہو رہی ہے۔ 2024 تک 63 ممالک اور علاقوں کی آبادی اپنے عروج کو پہنچ چکی تھی اور ان میں جرمنی، جاپان، چین اور روس جیسے ممالک شامل ہیں۔

یہ اعداد و شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ بڑھاپا مستقبل کا نہیں، آج کا مسئلہ ہے۔

بڑھاپا صرف عمر کا نام نہیں

ہم عام طور پر بزرگوں کی ضروریات کو کھانے، دوا اور رہائش تک محدود کر دیتے ہیں۔ یقیناً یہ بنیادی ضروریات ہیں، لیکن انسان صرف جسم کا نام نہیں۔

ایک عمر رسیدہ انسان کو دوا کے ساتھ کسی کی بات بھی چاہیے۔

اسے کھانے کے ساتھ کسی کی توجہ بھی چاہیے۔

اسے آرام کے ساتھ کسی کی موجودگی بھی چاہیے۔

اسے علاج کے ساتھ احترام بھی چاہیے۔

اور سب سے بڑھ کر اسے یہ احساس چاہیے کہ وہ اب بھی کسی کے لیے اہم ہے۔

بڑھاپے میں انسان صرف جسمانی کمزوری کا سامنا نہیں کرتا بلکہ تنہائی، شریکِ حیات کی جدائی، بچوں سے دوری، معاشی مشکلات، بیماری، نقل مکانی، سماجی کردار کے کم ہونے اور بعض اوقات اپنی زندگی کے مقصد کے بارے میں سوالات سے بھی گزرتا ہے۔

اس لیے بزرگوں کی دیکھ بھال کو صرف Elderly Care نہیں بلکہ Human Care کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

اولڈ ایج ہوم کیوں وجود میں آئے؟

دنیا کے مختلف معاشروں میں بزرگوں کی دیکھ بھال کے طریقے مختلف رہے ہیں۔ روایتی معاشروں میں مشترکہ خاندان، محلہ، برادری اور مذہبی و سماجی ادارے بزرگوں کے لیے ایک قدرتی سہارا فراہم کرتے تھے۔

لیکن وقت کے ساتھ خاندان کی ساخت تبدیل ہوئی۔

مشترکہ خاندان کم ہوئے، شہری زندگی بڑھی، نوجوان روزگار کے لیے دوسرے شہروں اور ملکوں میں منتقل ہوئے، میاں بیوی دونوں ملازمت کرنے لگے، بچے بیرونِ ملک آباد ہونے لگے اور بعض بزرگ ایسے بھی رہ گئے جن کا کوئی قریبی سہارا موجود نہیں تھا۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ خاندان اپنے بزرگوں سے محبت نہیں کرتے۔ بہت سے خاندان پوری محبت اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے بزرگوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ لیکن بعض حالات میں گھر پر مکمل نگہداشت ممکن نہیں رہتی۔

ایسے حالات میں اولڈ ایج ہوم، نرسنگ ہوم، رہائشی نگہداشت کے مراکز اور دیگر Elderly Care ادارے وجود میں آتے ہیں۔

ان اداروں کا بنیادی مقصد صرف ایک چھت فراہم کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا ہونا چاہیے جہاں بزرگ محفوظ، باعزت، مصروف، سماجی طور پر مربوط اور ذہنی طور پر مطمئن رہ سکیں۔

گھر یا اولڈ ایج ہوم؟ اصل سوال کچھ اور ہے

میرے نزدیک سوال یہ نہیں کہ بزرگ کو گھر میں رہنا چاہیے یا اولڈ ایج ہوم میں۔

اصل سوال یہ ہے:

بزرگ جہاں بھی رہ رہا ہے، کیا وہ واقعی تنہا تو نہیں؟

اگر ایک بزرگ اپنے گھر میں اپنے بچوں کے درمیان رہتا ہے لیکن دن بھر کسی سے بات نہیں کر پاتا، تو صرف گھر میں موجود ہونا کافی نہیں۔

اور اگر کوئی بزرگ اولڈ ایج ہوم میں رہتا ہے لیکن وہاں اسے عزت، گفتگو، دوست، سرگرمیاں، مناسب نگہداشت اور انسانی توجہ حاصل ہے تو ہمیں اس نظام کو صرف اس بنیاد پر رد نہیں کرنا چاہیے کہ وہ گھر سے باہر ہے۔

اصل ضرورت انسانی تعلق اور باعزت زندگی کی ہے۔

میری تحقیق کے دو راستے

اسی سوال نے میرے ذہن میں ایک ذاتی تحقیق کا خیال پیدا کیا ہے۔

میں مستقبل میں بزرگوں کی زندگی کو دو مختلف راستوں سے سمجھنا چاہتا ہوں۔

پہلا راستہ گھر کا ہے۔

میں ایسے بزرگوں سے ملنا چاہتا ہوں جو اپنے گھروں میں رہتے ہیں۔ ان کے ساتھ بیٹھنا، ان کی باتیں سننا، ان کی زندگی کے تجربات جاننا اور یہ سمجھنا کہ خاندان کے اندر رہتے ہوئے ان کی خوشیاں، مشکلات، تنہائی، ضروریات اور توقعات کیا ہیں۔

دوسرا راستہ ادارے کا ہے۔

میں اولڈ ایج ہومز، Elderly Care Centres اور ایسے اداروں کا مشاہدہ کرنا چاہتا ہوں جہاں بزرگ باقاعدہ نگہداشت کے نظام کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔

وہاں میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ انہیں صرف کھانا اور دوا مل رہی ہے یا اس کے ساتھ گفتگو، سرگرمی، ورزش، واک، سماجی رابطہ، عزت اور جذباتی سہارا بھی مل رہا ہے۔

دونوں راستوں کا موازنہ شاید ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دے سکے کہ بزرگوں کے لیے بہتر زندگی صرف عمارت یا رہائش سے نہیں بلکہ رشتے، ماحول، نگہداشت اور انسانی رویے سے بنتی ہے۔

جرمنی ہی کیوں؟

یہ سوال میرے لیے بہت اہم ہے کہ اگر میں اس تحقیق کا آغاز کسی ایک ملک سے کروں تو جرمنی ہی کیوں؟

جرمنی کا انتخاب صرف اس لیے نہیں کہ وہاں عمر رسیدہ آبادی بڑی ہے یا وہاں Elderly Care اور Long-Term Care کا ایک منظم نظام موجود ہے۔

ایک اہم وجہ خود جرمنی کی آبادیاتی صورتحال ہے۔

جرمنی کے وفاقی ادارۂ شماریات Destatis کے مطابق 2025 کے آخر میں جرمنی کی تقریباً 83.5 ملین آبادی میں 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کا حصہ تقریباً 31 فیصد تھا۔ اسی سال جرمنی کی مجموعی آبادی میں 0.1 فیصد کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ یعنی ایک طرف آبادی میں مجموعی کمی کا رجحان اور دوسری طرف عمر رسیدہ آبادی کا بڑھتا ہوا حصہ—یہ دونوں عوامل جرمنی کو عمر رسیدگی کے مطالعے کے لیے اہم بناتے ہیں۔

لیکن جرمنی میرے لیے صرف اس لیے اہم نہیں کہ وہاں بزرگ زیادہ ہیں۔

دوسری اور میرے لیے شاید زیادہ دلچسپ وجہ جرمنی کا کثیرالثقافتی معاشرہ ہے۔

جرمنی میں مختلف ممالک، زبانوں، نسلوں اور ثقافتی پس منظر رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ 2025 کے آخر میں تقریباً 14.07 ملین غیرملکی شہری جرمنی میں رجسٹرڈ تھے۔ ان میں تقریباً 35 فیصد یورپی یونین کے شہری، 32 فیصد دیگر یورپی ممالک کے شہری اور تقریباً 32 فیصد دوسرے براعظموں سے تعلق رکھنے والے، بے وطن یا نامعلوم شہریت والے افراد تھے۔

اس تنوع کی وجہ سے میرے لیے ایک منفرد تحقیقی سوال پیدا ہوتا ہے:

کیا مختلف قومیت، زبان اور ثقافت رکھنے والے لوگوں کا بڑھاپا بھی مختلف ہوتا ہے؟

مثلاً ایک جرمن بزرگ، ایک ترک نژاد بزرگ، ایک اطالوی، ایک پولش، ایک مشرقِ وسطیٰ سے تعلق رکھنے والا یا کسی دوسرے ثقافتی پس منظر کا بزرگ جب جرمنی میں بڑھاپا گزارتا ہے تو اس کی تنہائی، خاندان، یادیں، ثقافتی وابستگی، زبان، مذہب، خوراک، سماجی تعلقات اور اپنی شناخت کے احساس کی نوعیت کیا ہوتی ہے؟

یہ میرے لیے جرمنی کے انتخاب کی ایک بڑی وجہ ہے۔

میں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہتا کہ جرمنی اپنے بزرگوں کی دیکھ بھال کیسے کرتا ہے؛ میں یہ بھی دیکھنا چاہتا ہوں کہ مختلف معاشروں سے آنے والے بزرگ جرمنی میں بڑھاپا کیسے گزارتے ہیں۔

یقیناً ہر اولڈ ایج ہوم میں مختلف قومیتوں کے بزرگ موجود ہوں، یہ ضروری نہیں۔ اس لیے ایسے اداروں کا انتخاب بھی تحقیق کا حصہ ہوگا جہاں مختلف ثقافتی پس منظر رکھنے والے لوگوں سے ملاقات کا حقیقی امکان ہو۔

جرمنی آخری منزل نہیں

جرمنی میرے لیے منزل نہیں، بلکہ اس عالمی سفر کا پہلا باب ہوگا۔

اس کے بعد جاپان، جنوبی کوریا اور دنیا کے دوسرے ایسے معاشرے اس تحقیق کے اگلے ابواب بن سکتے ہیں جہاں آبادی تیزی سے عمر رسیدہ ہو رہی ہے۔

جاپان اس لیے اہم ہے کہ وہاں طویل عرصے سے کم شرحِ پیدائش اور عمر رسیدگی کے ساتھ آبادی کے حجم میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ جنوبی کوریا بھی انتہائی کم شرحِ پیدائش اور تیزی سے بدلتی ہوئی آبادیاتی ساخت کا سامنا کر رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے World Population Prospects 2024 میں جاپان، جرمنی اور جنوبی کوریا سمیت متعدد ممالک کو ایسی آبادیوں میں شمار کیا گیا ہے جو آبادیاتی منتقلی کے انتہائی ترقی یافتہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔

میری خواہش ہے کہ ایک دن اس تحقیق کا دائرہ مختلف ملکوں تک پھیلے اور یہ دیکھا جائے کہ مختلف معاشرے اپنے بزرگوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

ہمارے ماضی میں بزرگ کہاں تھے؟

یہاں مجھے اپنے پشتون معاشرے کی ایک پرانی روایت حجرہ یاد آتی ہے۔

حجرہ صرف بیٹھنے کی جگہ نہیں تھا۔

یہ ایک سماجی ادارہ تھا۔

وہاں بزرگ بیٹھتے تھے، نوجوان آتے تھے، گفتگو ہوتی تھی، فیصلے ہوتے تھے، مسائل سنے جاتے تھے اور زندگی کے تجربات ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتے تھے۔

ایک نوجوان کے لیے بزرگ صرف ایک عمر رسیدہ شخص نہیں بلکہ تجربے کی ایک کتاب ہوتا تھا۔

لیکن جدید زندگی کے بدلتے ہوئے انداز کے ساتھ حجرے کا کردار بھی کمزور ہوا ہے۔

آج ہمارے پاس عمارتیں زیادہ ہیں، ٹیکنالوجی زیادہ ہے، رابطے کے ذرائع زیادہ ہیں، لیکن بعض اوقات بات سننے والا انسان کم ہے۔

شاید ہمیں جدید دنیا میں حجرے کے تصور کو ایک نئے انداز میں زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔

ایسا جدید سماجی ماحول جہاں بزرگ صرف نگہداشت حاصل نہ کریں بلکہ اپنی کہانیاں سنائیں، نوجوان ان سے سیکھیں، بچے ان کے تجربات جانیں اور نسلوں کے درمیان تعلق قائم رہے۔

بزرگوں کی سب سے بڑی ضرورت: کوئی سننے والا

میں سمجھتا ہوں کہ آنے والی دنیا میں Elderly Care کی تعریف بھی بدلنی ہوگی۔

بزرگ کو صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے:

آپ نے دوا لی؟

اس کے ساتھ یہ بھی پوچھنا چاہیے:

آپ آج کیسے محسوس کر رہے ہیں؟

آپ کس چیز کو یاد کر رہے ہیں؟

آپ کی زندگی کا سب سے خوبصورت واقعہ کون سا تھا؟

آپ نوجوانوں کو کیا بتانا چاہتے ہیں؟

اور شاید سب سے اہم:

کیا کوئی آپ کی بات سنتا ہے؟

کسی بزرگ کے پاس زندگی کے پچاس، ساٹھ، ستر یا اس سے بھی زیادہ سالوں کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس کی یادیں صرف اس کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتیں؛ ان میں ایک خاندان، ایک معاشرے، ایک شہر، ایک قوم اور کبھی کبھی ایک پورے تاریخی دور کی کہانی چھپی ہوتی ہے۔

اسی لیے بزرگوں کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی کی کہانیوں کو محفوظ کرنا بھی ایک اہم سماجی خدمت ہو سکتی ہے۔

پاکستان کو بھی اس سوال کا جواب دینا ہوگا

یہ مسئلہ صرف یورپ، جاپان یا جنوبی کوریا کا نہیں۔

پاکستان بھی اس عالمی تبدیلی سے باہر نہیں رہ سکتا۔

آج ہمارے معاشرے میں بھی نوجوان روزگار، تعلیم اور بہتر مستقبل کے لیے دوسرے شہروں اور بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔ خاندان کی ساخت تبدیل ہو رہی ہے۔ شہری زندگی بڑھ رہی ہے اور آنے والے برسوں میں بزرگوں کی ضروریات بھی بدلیں گی۔

ہمیں ابھی سے سوچنا ہوگا کہ ہمارے بزرگ کل کہاں ہوں گے؟

کون ان کے ساتھ بیٹھے گا؟

کون ان کی دوا کا خیال رکھے گا؟

کون ان کے ساتھ چہل قدمی کرے گا؟

کون ان کی بات سنے گا؟

کون ان کی زندگی کی کہانی محفوظ کرے گا؟

اور اگر خاندان کسی وجہ سے یہ ذمہ داری پوری نہ کر سکے تو معاشرہ اور ریاست کیا متبادل فراہم کریں گے؟

یہ سوال آج شاید ہمیں بہت بڑا محسوس نہ ہو، لیکن آنے والے برسوں میں یہ ہماری اجتماعی زندگی کے اہم ترین سوالات میں شامل ہو سکتا ہے۔

آخر میں

اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار ہمیں ایک واضح حقیقت بتا رہے ہیں: دنیا میں 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ 2025 میں یہ تعداد تقریباً 1.2 ارب تک پہنچ چکی ہے اور 2050 تک تقریباً 2.1 ارب ہونے کی توقع ہے۔

یہ صرف ایک عدد نہیں۔

یہ 2.1 ارب زندگیوں کی بات ہے۔

ان میں کسی کی ماں ہوگی، کسی کا باپ، کسی کا دادا، کسی کی دادی، کسی کا استاد، کسی کا دوست، کسی کا شریکِ حیات اور کسی ایسے شخص کی پوری زندگی کی داستان ہوگی جسے شاید دنیا نے کبھی نام سے نہیں جانا۔

ہم نے انسان کی زندگی لمبی کرنے کی بہت کوشش کی ہے۔

اب شاید ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ لمبی زندگی کو باعزت، بامقصد، سماجی اور خوشگوار زندگی کیسے بنایا جائے؟

دنیا بوڑھی ہو رہی ہے۔

سوال صرف یہ نہیں کہ بوڑھے لوگ کتنے ہوں گے؟

اصل سوال یہ ہے:

جب ہم خود بوڑھے ہوں گے تو ہمارے ساتھ کون بیٹھا ہوگا؟

اور شاید آج ہی سے ہمیں اس سوال کا جواب تلاش کرنا شروع کر دینا چاہیے۔

Loading

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے