تازہ ترین خبریں اور معتبر تجزیے | خیبر پختونخواہ کا سب سے بڑا خبر رساں ادارہ

پاکستان میں آبادی کا بوجھ یا انسانی سرمایہ؟

تحریر: احمد فراز

پاکستان کے پاس دنیا کے لیے نوجوان ہاتھوں کی کمی نہیں، سوال صرف یہ ہے کہ ہم ان ہاتھوں میں ہنر کب دیں گے؟

یہ سوال آج محض ایک تعلیمی یا معاشرتی سوال نہیں رہا، بلکہ پاکستان کے مستقبل کی معیشت، روزگار، آبادی اور قومی سلامتی سے جڑا ہوا سوال بن چکا ہے۔ دنیا ایک بڑی آبادیاتی تبدیلی سے گزر رہی ہے۔ کہیں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، کہیں شرحِ پیدائش کم ہونے کے باعث معاشرے عمر رسیدہ ہو رہے ہیں، اور کہیں نوجوانوں کی ایک بڑی نسل روزگار کے دروازے پر کھڑی ہے۔

پاکستان اسی تیسرے منظرنامے میں کھڑا ہے۔

ہمارے پاس نوجوان آبادی ایک بڑی طاقت ہے، لیکن طاقت اس وقت اثاثہ بنتی ہے جب اسے تعلیم، صحت، ہنر اور روزگار سے جوڑا جائے۔ بصورتِ دیگر یہی آبادی بے روزگاری، مایوسی اور معاشی دباؤ کا سبب بن سکتی ہے۔

یہاں ہمیں آبادی کے بارے میں اپنی پوری سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

مسئلہ صرف بڑھتی ہوئی آبادی نہیں؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی آبادی کو کس طرح کا انسان بنا رہے ہیں۔

آبادی کو صرف گنتی نہیں، انسانی سرمایہ سمجھنا ہوگا

اقوامِ متحدہ کے تازہ آبادیاتی جائزوں کے مطابق دنیا کے مختلف خطوں میں آبادیاتی تبدیلی ایک جیسی نہیں۔ کچھ معاشروں میں شرحِ پیدائش بلند ہے، جبکہ دوسرے معاشرے کم شرحِ پیدائش اور عمر رسیدگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں مستقبل کی افرادی قوت کی ضروریات بھی مختلف ہوں گی۔

یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کے لیے ایک تاریخی موقع پیدا ہوتا ہے۔

پاکستان کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اگر دنیا کے کچھ ممالک کو مستقبل میں ہنرمند افرادی قوت کی ضرورت ہوگی تو کیا ہم وہ افرادی قوت تیار کر سکتے ہیں؟

جواب ہاں میں ہے، مگر اس کے لیے ہمارے تعلیمی، تربیتی اور روزگار کے پورے نظام کو بدلنا ہوگا۔

UNFPA بھی پاکستان میں آبادی کے مسئلے کو محض تعداد کے زاویے سے نہیں دیکھتا بلکہ انسانی ترقی، خاندانی منصوبہ بندی، خواتین کی خودمختاری اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اہم سمجھتا ہے۔ پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی کی غیر پوری ضرورت اب بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔

لہٰذا ہمیں "Population Control” کی محدود سوچ سے آگے بڑھ کر Population Management اور Human Capital Development کی طرف جانا ہوگا۔

آٹھ بچے یا دو ہنرمند بچے؟

ہمارے معاشرے میں ایک تصور پایا جاتا ہے کہ زیادہ بچے زیادہ کمانے والے ہاتھ بنیں گے۔ لیکن آج کی معیشت میں صرف ہاتھ کافی نہیں؛ ہنرمند ہاتھ درکار ہیں۔

یہاں ایک مثال ہمارے سامنے آتی ہے۔

اگر ایک خاندان کے آٹھ بچے ہوں لیکن انہیں معیاری تعلیم، صحت، ہنر اور روزگار کے مواقع نہ ملیں، جبکہ دوسرے خاندان کے دو بچے اعلیٰ معیار کی تعلیم حاصل کریں، کسی فنی یا ڈیجیٹل ہنر میں مہارت پیدا کریں اور عالمی مارکیٹ میں کام کرنے کے قابل بن جائیں، تو معاشی اعتبار سے دوسرے خاندان کے بچے کہیں زیادہ پیداواری انسانی سرمایہ بن سکتے ہیں۔

یہ "آٹھ کے مقابلے میں دو” کوئی سائنسی یا معاشی فارمولا نہیں، بلکہ سوچ بدلنے کی ایک مثال ہے۔

اصل پیغام یہ ہے:

ہمیں صرف زیادہ بچے نہیں، زیادہ قابل اور ہنرمند انسان چاہییں۔

ہمارے تعلیمی نصاب کو بھی مستقبل سے سوال کرنا ہوگا

پاکستان میں تعلیم کے بارے میں سب سے مشکل سوال شاید یہ ہے کہ کیا ہمارا موجودہ نصاب ہمارے بچوں کو آنے والی دنیا کے لیے تیار کر رہا ہے؟

تاریخ پڑھنا ضروری ہے۔ ہمیں اپنے ماضی، تہذیب، ریاست، معاشرے اور دنیا کی تاریخ سے واقف ہونا چاہیے۔ لیکن تاریخ کا مقصد صرف بادشاہوں کے نام، پیدائش، وفات اور حکمرانی کے سال یاد کرنا نہیں ہونا چاہیے۔

ہمیں تاریخ سے یہ سیکھنا چاہیے کہ قومیں کیوں ترقی کرتی ہیں، کیوں زوال پذیر ہوتی ہیں، ریاستیں کیسے بنتی ہیں، معاشرے کیسے تبدیل ہوتے ہیں اور ماضی کی غلطیوں سے مستقبل کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

اسی طرح سماجیات، سائنس، ریاضی اور دیگر مضامین بھی ضروری ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان مضامین کو زندگی اور عملی معیشت کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے؟

اگر ایک طالب علم دس، بارہ یا سولہ سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی عملی زندگی میں کسی کام کو کرنے کی بنیادی صلاحیت نہیں رکھتا تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔

پرائمری سے ماسٹرز تک: ہر سطح پر ہنر

ہمیں ایک ایسا تعلیمی ماڈل درکار ہے جس میں بچہ پرائمری سطح سے ہی یہ سمجھنا شروع کرے کہ تعلیم کا مقصد صرف امتحان پاس کرنا نہیں، بلکہ زندگی کے لیے تیار ہونا بھی ہے۔

پرائمری سطح پر بچوں میں بنیادی تخلیقی، ڈیجیٹل اور عملی صلاحیتیں پیدا کی جائیں۔

مڈل اور سیکنڈری سطح پر مختلف Skills سے تعارف کرایا جائے۔

دسویں جماعت تک ہر طالب علم کم از کم ایک یا دو عملی Skills میں بنیادی تربیت حاصل کر چکا ہو۔

کسی طالب علم کی دلچسپی کمپیوٹر اور پروگرامنگ میں ہو سکتی ہے، کسی کی الیکٹریکل کام میں، کسی کی سولر ٹیکنالوجی میں، کسی کی مکینیکل شعبے میں، کسی کی گرافک ڈیزائننگ، زراعت، تعمیرات، کھانا پکانے، صحت، لاجسٹکس یا کسی اور فنی شعبے میں۔

کالج اور یونیورسٹی میں یہی Skills مزید Professional Certification، Internship، Apprenticeship اور Industry کے ساتھ منسلک کی جائیں۔

ہمیں ایسے نوجوان پیدا کرنے ہیں جو ڈگری کے ساتھ یہ بھی کہہ سکیں:

"میں یہ کام کر سکتا ہوں۔”

دنیا کو جس ہنر کی ضرورت ہے، پاکستان وہ ہنر پیدا کرے

پاکستان کو ایک National Skill Export Model کی ضرورت ہے۔

حکومت کو عالمی مارکیٹ کا مستقل جائزہ لینا چاہیے کہ اگلے دس، بیس اور تیس برس میں کن ممالک اور شعبوں میں افرادی قوت کی ضرورت ہوگی۔

یورپ، جاپان اور دیگر عمر رسیدہ معاشروں میں نرسنگ، بزرگوں کی دیکھ بھال، پلمبنگ، الیکٹریشن، ویلڈنگ، مشین آپریشن اور دیگر ٹیکنیکل شعبے اہم ہو سکتے ہیں۔

خلیجی ممالک میں تعمیرات، HVAC، سولر ٹیکنالوجی، ہیوی مشینری، ہاسپیٹیلٹی، لاجسٹکس اور سیفٹی جیسے شعبے اہم ہیں۔

ڈیجیٹل دنیا میں سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت، سافٹ ویئر اور دیگر ٹیکنالوجی Skills کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔

آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور دیگر ممالک میں تعمیرات، کارپینٹری، زراعت، ڈیری اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کو اپنے نوجوانوں کو صرف مقامی نوکریوں کے لیے نہیں بلکہ عالمی روزگار کی مارکیٹ کے لیے بھی تیار کرنا ہوگا۔

خواتین کو نظرانداز کرکے آبادی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا

آبادی اور انسانی سرمایہ کی بحث خواتین کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔

اگر ایک عورت تعلیم یافتہ، صحت مند، ہنرمند اور معاشی طور پر بااختیار ہو تو اس کے اثرات صرف اس کی اپنی زندگی تک محدود نہیں رہتے؛ اس کے بچوں کی تعلیم، صحت اور مستقبل بھی بہتر ہو سکتا ہے۔

UNFPA کے مطابق پاکستان میں صرف تقریباً ایک تہائی خواتین اپنی تولیدی صحت سے متعلق فیصلوں میں مکمل فیصلہ سازی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ اعداد ہمیں بتاتے ہیں کہ آبادی کے سوال کو خواتین کی خودمختاری، تعلیم اور صحت سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔

لہٰذا خاندانی منصوبہ بندی کو بنیادی صحت، تعلیم اور خواتین کے معاشی مواقع کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ اس میں جبر نہیں بلکہ باخبر، رضاکارانہ اور ذمہ دارانہ فیصلہ سازی بنیادی اصول ہونا چاہیے۔

حکومت کے ساتھ معاشرہ بھی ذمہ دار ہے

یہ کام صرف حکومت کے ذریعے ممکن نہیں۔

نجی شعبہ، جامعات، ٹیکنیکل ادارے، NGOs، سول سوسائٹی اور میڈیا کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

صنعتیں Apprenticeship پروگرام شروع کریں۔

نجی ادارے Skill Centres قائم کریں۔

جامعات عالمی مارکیٹ کی ضروریات پر تحقیق کریں۔

سول سوسائٹی پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں تک Skills پہنچائے۔

میڈیا معاشرے میں یہ شعور پیدا کرے کہ ہنر کسی ڈگری سے کم نہیں۔

ہمیں اپنے بچوں سے صرف یہ پوچھنا چھوڑنا ہوگا:

"تم بڑے ہو کر ڈاکٹر بنو گے یا انجینئر؟”

اس کے ساتھ یہ سوال بھی ہونا چاہیے:

"تمہارے پاس ایسا کون سا ہنر ہوگا جس سے تم اپنی زندگی اور اپنے ملک کی معیشت میں حصہ ڈال سکو؟”

ڈگری اور ہنر میں مقابلہ نہیں، امتزاج چاہیے

یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری ہے کہ Skills کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بنیادی تعلیم، تاریخ، سماجیات، سائنس، ریاضی یا ادب کو ختم کر دیں۔

قومیں صرف کاریگروں سے نہیں بنتیں اور صرف ڈگری ہولڈرز سے بھی نہیں بنتیں۔

ہمیں علم اور ہنر کا امتزاج چاہیے۔

ایک طالب علم تاریخ بھی جانے، سائنس بھی سمجھے، ریاضی بھی جانتا ہو، معاشرہ بھی سمجھتا ہو، ٹیکنالوجی بھی استعمال کر سکے اور کم از کم ایک ایسا عملی ہنر بھی رکھتا ہو جس سے وہ معاشی طور پر فعال ہو سکے۔

یہی مستقبل کی تعلیم ہے۔

پاکستان کا اصل Demographic Dividend

نوجوان آبادی اپنے آپ میں Demographic Dividend نہیں ہوتی۔

نوجوان آبادی کو تعلیم، صحت، ہنر اور روزگار ملے تو وہ Demographic Dividend بن سکتی ہے۔

ورنہ یہی نوجوان بے روزگاری، مایوسی اور معاشی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کے پاس موقع موجود ہے، مگر یہ موقع ہمیشہ نہیں رہے گا۔

دنیا کی آبادیاتی ساخت تبدیل ہو رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق عالمی آبادی بھی ایک ایسے مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں مختلف علاقوں میں شرحِ پیدائش اور عمر کی ساخت میں نمایاں فرق پیدا ہوگا۔

ہمیں اسی تبدیلی کو سمجھ کر آج فیصلہ کرنا ہوگا کہ پاکستان مستقبل کی عالمی افرادی قوت میں اپنا حصہ کیسے ڈالے گا۔

آخری بات: ہمیں آبادی نہیں، صلاحیت گننی ہوگی

آخر میں شاید سب سے اہم سوال یہی ہے:

پاکستان میں کتنے لوگ رہتے ہیں؟

اس سے بڑا سوال یہ ہونا چاہیے:

پاکستان میں کتنے لوگ ہنرمند ہیں؟

کتنے نوجوان عالمی معیار کا کام کر سکتے ہیں؟

کتنی خواتین معاشی طور پر فعال ہیں؟

کتنے بچے اسکول کے بعد کوئی عملی Skill رکھتے ہیں؟

کتنے نوجوان ڈگری کے ساتھ روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

اور کتنے پاکستانی دنیا کے کسی بھی ملک میں جا کر یہ کہہ سکتے ہیں:

"میں آپ کے ملک کی ضرورت کا ہنر رکھتا ہوں۔”

اگر ہم نے اپنی تعلیمی ترجیحات کو مستقبل کی ضروریات سے جوڑ دیا، نوجوانوں کو Skills دیے، خواتین کو تعلیم اور معاشی مواقع فراہم کیے، خاندانی فیصلوں کو باخبر اور رضاکارانہ بنایا اور عالمی مارکیٹ کے مطابق اپنی افرادی قوت تیار کی تو ہماری آبادی ہمارے لیے مسئلہ نہیں رہے گی۔

وہ ہمارا سب سے بڑا اثاثہ بن سکتی ہے۔

آٹھ غیر ہنرمند بچوں کے مقابلے میں دو ہنرمند بچوں کا تصور کسی عدد کا فارمولا نہیں، ایک قومی سوچ کی علامت ہے۔

ہمیں تعداد سے زیادہ قابلیت چاہیے۔
ڈگری سے زیادہ عملی صلاحیت چاہیے۔
اور آبادی سے زیادہ انسانی سرمایہ چاہیے۔

پاکستان کا مستقبل صرف اس بات میں نہیں کہ ہماری آبادی کتنی ہے۔

پاکستان کا مستقبل اس بات میں ہے کہ ہماری آبادی کتنی قابل ہے۔

تحریر: احمد فراز

Loading

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے