احمد فراز
دنیا تہذیبوں کا ایک وسیع جنگل ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں نئی تہذیبوں اور روایات کا اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ کچھ تہذیبیں وقت کے ساتھ مٹ جاتی ہیں، کچھ نئی تہذیبیں جنم لیتی ہیں، جبکہ بعض تہذیبوں کے ملاپ سے ایک نئی تہذیب وجود میں آتی ہے۔ دورِ جدید میں اس تبدیلی کو بعض اوقات جنریشن گیپ یعنی نسلوں کے درمیان فکری اور معاشرتی فاصلے سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ایسی ہی تہذیبی روایات میں پشتون معاشرے کی ایک اہم روایت حجرہ ہے۔حجرہ پشتون ثقافت اور روایات کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔
افغانستان اور پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے پشتون معاشرے میں حجرہ ایک ایسی اجتماعی جگہ سمجھی جاتی تھی جہاں محلے اور گاؤں کے لوگ مل بیٹھتے، ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے، خوشیاں مناتے اور اجتماعی مسائل پر گفتگو کرتے تھے۔روایتی طور پر جب کوئی شخص گھر بناتا تو اس کے ساتھ ایک حجرہ بھی ضروری سمجھا جاتا تھا۔ حجرے کا بنیادی مقصد مہمانوں کے قیام اور اہلِ علاقہ کے باہمی میل جول کے لیے ایک الگ جگہ فراہم کرنا تھا۔حجرہ صرف مہمانوں کے ٹھہرنے کی جگہ نہیں تھا۔ محلے اور گاؤں کی شادی بیاہ کی تقریبات بھی یہاں منعقد ہوتی تھیں۔ کسی کے انتقال پر لوگ تعزیت کے لیے حجرے میں جمع ہوتے۔ گاؤں کے بڑے بوڑھے یہاں بیٹھتے، اکٹھے کھانا کھاتے اور اپنے تجربات نئی نسل تک منتقل کرتے۔کیونکہ معاشرے کا علم صرف کتابوں میں نہیں ہوتا، معاشرے کا اصل علم خود معاشرے کے اندر موجود ہوتا ہے۔ اس علم کے مختلف مراکز ہوتے ہیں؛ بازار، مسجد، قبرستان، کھیت، کھلیان، زمینداری، تجارت اور انہی مراکز میں ایک اہم مرکز حجرہ بھی تھا۔
ابتدائی دور میں اکثر گاؤں کے ملک یا بااثر خاندان حجرے تعمیر کرواتے اور ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی انہی کے پاس ہوتی۔ حجرے میں ایک خادم بھی ہوتا تھا جو آنے والے مہمانوں کی خاطر مدارت کرتا۔ گاؤں کے اجتماعی فیصلے، باہمی جھگڑے اور مختلف مسائل بھی حجرے میں بیٹھ کر حل کیے جاتے تھے۔وقت گزرتا گیا تو حجروں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور تقریباً ہر گاؤں اور ہر محلے میں ایک حجرہ موجود ہونے لگا۔ لیکن پھر آبادی میں اضافہ ہوا، معاشرتی رویے تبدیل ہوئے اور لوگوں کے دلوں میں وہ وسعت باقی نہ رہی جو ماضی میں نظر آتی تھی۔رفتہ رفتہ حجروں کا نظام کمزور ہونے لگا۔ بعض لوگوں نے حجروں کو کرائے پر دینا شروع کر دیا، بعض نے انہیں رہائشی مکانات میں تبدیل کر لیا اور یوں ایک ایسی روایت جو کبھی پشتون معاشرے کی شناخت کا حصہ تھی، آج تقریباً ختم ہونے کے قریب ہے۔
حجرہ صرف ایک عمارت یا کمرہ نہیں تھا۔ یہ بچوں کی تربیت، نوجوانوں کی رہنمائی اور بزرگوں کے تجربات نئی نسل تک منتقل کرنے کا ایک غیر رسمی ادارہ تھا۔ لوگ ایک دوسرے سے ملتے، ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرتے اور ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ لیکن اب یہ سب کچھ تیزی سے بدل گیا ہے۔حجروں کی جگہ اب چھوٹی بیٹھکوں، ڈرائنگ رومز اور شادی ہالز نے لے لی ہے۔ یوں پشتون معاشرہ ایک اہم اجتماعی روایت سے محروم ہوتا جا رہا ہے۔حجرے کے خاتمے کی وجوہاتاگر حجرے کے زوال کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو ان میں سب سے اہم وجہ معاشرتی تبدیلی ہے۔ نئی نسل کے طرزِ زندگی میں بہت بڑی تبدیلی آئی ہے۔ پہلے لوگ زیادہ وقت ایک دوسرے کے ساتھ گزارتے تھے، جبکہ اب ہر گھر میں ڈرائنگ روم، ٹیلی ویژن، موبائل فون اور انٹرنیٹ موجود ہے۔موبائل فون اور سوشل میڈیا نے انسانی رابطوں کی نوعیت ہی بدل دی ہے۔ پہلے لوگ حجرے میں جمع ہوتے تھے، اب واٹس ایپ گروپس میں موجود ہوتے ہیں۔ پہلے گاؤں کے لوگ ایک جگہ بیٹھ کر خبریں سنتے اور ان پر گفتگو کرتے تھے، اب یہی کام سوشل میڈیا اور ٹی وی کر رہے ہیں۔معاشی دباؤ بھی حجرے کے خاتمے کی ایک بڑی وجہ ہے۔
حجرے کا خرچ، مہمانوں کی خاطر مدارت، چائے پانی، لکڑی، صفائی اور دیگر ضروریات کی ذمہ داری کسی نہ کسی خاندان یا مالک کے ذمے ہوتی تھی۔ موجودہ مہنگائی کے دور میں یہ بوجھ اٹھانا بہت سے لوگوں کے لیے مشکل ہو گیا ہے۔اس کے علاوہ گاؤں کے نوجوانوں کی بڑی تعداد تعلیم اور روزگار کے لیے اپنے علاقوں سے باہر چلی گئی۔ کوئی پشاور، کوئی کراچی، کوئی لاہور اور کوئی ملک سے باہر روزگار کے لیے چلا گیا۔ اس نقل مکانی نے بھی گاؤں کے روایتی اجتماعی نظام کو کمزور کیا۔خاندانی نظام میں تبدیلی بھی حجرے کے زوال کی ایک اہم وجہ ہے۔ ماضی میں مشترکہ خاندان کا رواج عام تھا۔ دادا، دادی، والدین، بچے، پوتے، پوتیاں، نواسے اور نواسیاں ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ اب مشترکہ خاندانی نظام تیزی سے کم ہو رہا ہے اور لوگ چھوٹے چھوٹے گھروں میں الگ زندگی گزارنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ برداشت، صبر اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کی صلاحیت میں بھی کمی آئی ہے۔
بعض علاقوں میں سیکیورٹی کے مسائل نے بھی حجرے کے نظام کو متاثر کیا۔ کچھ علاقوں میں حجرے ماضی میں نشانے پر بھی رہے، جس کی وجہ سے لوگوں کا اجتماعی طور پر ایک جگہ جمع ہونا کم ہوا اور اعتماد کا رشتہ بھی متاثر ہوا۔حجرے کے فوائداگر حجرے کے فوائد کی بات کی جائے تو سب سے اہم چیز اتحاد اور بھائی چارہ تھا۔ حجرہ پورے گاؤں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھنے کا ذریعہ تھا۔خوشی ہو یا غمی، جرگہ ہو یا اجتماعی فیصلہ، بہت سے معاملات حجرے میں طے ہوتے تھے۔ زمین کے تنازعات، شادی بیاہ کے معاملات اور گاؤں کے دیگر چھوٹے بڑے مسائل پر لوگ بیٹھ کر بات کرتے اور انہیں حل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔اگر کسی کے گھر مہمان آتے تو پورا محلہ اس مہمان کو اپنا مہمان سمجھتا۔ لوگ اپنے گھروں میں جو کچھ پکتا، اس میں سے مہمان کی خاطر مدارت کرتے۔ یوں ایک اجنبی شخص بھی خود کو اجنبی محسوس نہیں کرتا تھا۔ اسے عزت، تحفظ اور اپنائیت کا احساس دیا جاتا تھا۔
حجرہ نوجوانوں کی تربیت اور رہنمائی کا بھی ایک اہم مرکز تھا۔ نوجوان بزرگوں کے ساتھ بیٹھ کر شجاعت، اخلاق، روایات، معاشرتی آداب اور زندگی کے تجربات سیکھتے تھے۔ اس لحاظ سے حجرہ ایک غیر رسمی درس گاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔حجرہ گاؤں کی اطلاعات کا بھی ایک مرکزی مرکز تھا۔ گاؤں کی خبریں، فصلوں کی صورتحال، سیاست، حکومتی اعلانات اور علاقے کے دیگر معاملات حجرے تک پہنچتے اور پھر ان پر تفصیلی گفتگو اور تبصرہ ہوتا۔لیکن میری نظر میں حجرے کی سب سے اہم خصوصیت سماجی تحفظ تھا۔گاؤں کے ضرورت مند، یتیم اور غریب لوگ حجرے کے ذریعے مدد حاصل کرتے تھے۔ انہیں کھانا، پناہ اور ضرورت کے وقت مالی یا سماجی تعاون بھی فراہم کیا جاتا تھا۔ اس طرح حجرہ صرف ایک بیٹھک نہیں بلکہ معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے ایک غیر رسمی سماجی تحفظ کا نظام بھی تھا۔
حجرہ ایک مکمل سماجی ادارہ مختصر یہ کہ حجرہ محض ایک کمرہ نہیں تھا۔ یہ پشتون معاشرے کا پارلیمنٹ، عدالت، مہمان خانہ، درس گاہ اور سماجی کلب سب کچھ تھا۔یہ وہ جگہ تھی جہاں نسلیں ایک دوسرے سے ملتی تھیں، جہاں بزرگ اپنا تجربہ نوجوانوں کو منتقل کرتے تھے، جہاں اختلافات کو گفتگو کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی اور جہاں خوشی اور غم میں پورا معاشرہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا۔آج حجرے ختم ہو رہے ہیں۔ بعض گاؤں اور علاقوں میں اب بھی چند حجرے موجود ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ روایت زوال پذیر ہے۔ایک ثقافت اور روایت کے ختم ہونے کے ساتھ ایک نئی طرزِ زندگی نے جنم لیا ہے۔ اسے آج کی زبان میں نئی نسل یا جن زی کہا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہم ترقی کے نام پر کیا حاصل کر رہے ہیں اور کیا کھو رہے ہیں؟کیا جدید ٹیکنالوجی، موبائل فون اور سوشل میڈیا ہمیں ایک دوسرے کے قریب لا رہے ہیں یا ہمارے درمیان موجود حقیقی انسانی فاصلے بڑھا رہے ہیں؟حجرہ شاید واپس اپنی پرانی شکل میں نہ آئے، لیکن اس کی روح یعنی اجتماعیت، بھائی چارہ، مہمان نوازی، بزرگوں کا احترام، نوجوانوں کی تربیت اور ضرورت مندوں کی مدد اگر ہم اپنی نئی نسل میں منتقل کر سکیں تو شاید ایک خوبصورت پشتون روایت کو مکمل طور پر مرنے سے بچایا جا سکتا ہے۔کیونکہ تہذیبیں صرف عمارتوں سے نہیں بنتیں، روایات، اقدار اور انسانوں کے باہمی تعلق سے زندہ رہتی ہیں۔
![]()















Leave a Reply